بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا کہ اس نے آپریشن نصر 2 کی 17یں لہر میں بحرین میں بغیر ملاح کی امریکی آبدوزوں (Unmanned underwater vehicles [UUVs]) کے ڈپو کو نشانہ بنایا، جس میں بے شمار آبدوزیں جل کر راکھ ہو گئیں۔ یہ حملہ خیبرشکن، ذوالفقار، فاتح 110 اور حاج قاسم میزائلوں اور شاہد ڈرونز کے ذریعے کیا گیا۔
بحرین — امریکی بحری کمانڈ کا اہم مرکز
اس حملے نے بحرین میں امریکی بحری اڈے (NSA Bahrain) کی طرف توجہ مبذول کروائی، جو محض ایک سپلائی بیس نہیں بلکہ مغربی ایشیا میں امریکی بحری کمانڈ کا قلب ہے۔ یہاں پانچویں بحری اڈے (Fifth Fleet)، نیوسینٹ (NAVCENT)، مشترکہ بحری افواج (CMF) اور ٹاسک فورس 59 (مصنوعی ذہانت اور ریموٹ کنٹرولذ سسٹمز کی ترقی کی خصوصی یونٹ) کے مراکز موجود ہیں۔
تزویراتی اہمیت
پانچویں بحری بیڑے کی ذمہ داری خلیج فارس، آبنائے ہرمز، بحیرہ عمان، بحیرہ احمر، باب المندب اور شمالی بحیرہ ہند تک پھیلی ہوئی ہے؛ جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لئے انتہائی اہم آبی راستے ہیں۔
نئی ٹیکنالوجی کی طرف رجحان
سنہ 2019 میں ٹاسک فورس 59 کے قیام کے بعد امریکی بحری حکمت عملی میں تبدیلی آئی ہے ـ بڑے جنگی جہازوں کے بجائے UUVs، ڈرونز، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ کم انسانی وسائل کے ساتھ زیادہ بہتر بحری نگرانی ممکن ہو سکے۔
جغرافیائی محل وقوع
بحرین خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے اور بحیرہ احمر و شمالی بحیرہ ہند میں آپریشنز کی معاونت بھی کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے یہ امریکہ کے لئے انتہائی اہم تزویراتی مقام ہے۔
امریکی-بحرینی تعاون
سنہ 2021 سے دونوں ممالک UUVs بحری سسٹمز کے انضمام پر مل کر کام کر رہے ہیں اور 2023 میں مشترکہ ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا گیا۔ اس اڈے پر ہزاروں امریکی فوجی اور اتحادی افواج کے اہلکار تعینات ہیں۔
خلاصہ یہ کہ بحرین کا یہ اڈہ امریکی بحری حکمت عملی کا مرکزی گڑھ ہے، جو نہ صرف پانچویں بحری بیڑے کی کمانڈ سنبھالتا ہے بلکہ اب UUVs اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی نسلِ کے جدید بحری نظاموں کی ترقی و تعیناتی کا بھی مرکز بن چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مہدی طلوعی
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

اے آئی کمپلیکس - بحرین

اے آئی کمپلیکس - بحرین




آپ کا تبصرہ